ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / علیحدگی پسندوں کی ہڑتال اور پابندی سے وادی میں معمولات زندگی متاثر

علیحدگی پسندوں کی ہڑتال اور پابندی سے وادی میں معمولات زندگی متاثر

Sat, 10 Jun 2017 12:03:40    S.O. News Service

سری نگر، 9؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )کشمیر میں ایک نوجوان کے قتل کے خلاف علیحدگی پسندوں کی جانب سے طلب کی گئی ہڑتال اور انتظامیہ کی طرف سے لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگائے جانے سے آج وادی کشمیر کے کئی مقامات پر معمولات زندگی متاثر رہے ۔حکام نے بتایا کہ پوری وادی کے کئی مقامات پر کاروباری ادارے اور دکانوں کے ساتھ اسکول اور کالج بند رہے۔قومی جانچ ایجنسی(این آئی اے)کی حالیہ چھاپے ماری، اور منگل کو گنگاپورہ شوپیاں میں سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان ہوئی جھڑپ کے دوران 19سالہ عادل فاروق نامی نوجوان کی موت کے بعد علیحدگی پسندوں کی طرف سے طلب کردہ ہڑتال کے پیش نظر انتظامیہ نے قانون وانتظام کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے سری نگر اور شوپیاں قصبے کے کچھ حصوں میں کر فیو لگا دی ہے ۔حریت کانفرنس کے دونوں گروپ کے چیئرمین، سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور جے کے ایل ایف کے سربراہ یاسین ملک نے جنوبی کشمیر میں لوگوں سے جھڑپ میں مارے گئے نوجوان کے گھر کی طرف کوچ کرنے کی اپیل کی تھی۔انتظامیہ نے سری نگر کے سات پولیس تھانہ علاقے، کھانیار، ایم آر گنج، صفاکدل، رانی واڑی، کرال خود ، نوہٹا اور میسوما میں کرفیو لگا رکھا ہے ۔حکام نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں قصبے کے علاوہ، وسطی کشمیر کے گندیربل ضلع میں دفعہ 144لگا دی گئی ہے، جبکہ یہاں لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ میں بھاری مقدار میں سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے ۔انتظامیہ نے آج وادی کے تمام اسکولوں، سینئر سیکنڈری اسکول اور کالجز بند کروا دیئے ہیں، کشمیر یونیورسٹی کے مجوزہ امتحانات بھی ملتوی کر دئے گئے ہیں۔حکام نے بتایا کہ علاقے کی زیادہ تر دکانیں، پٹرول پمپ اور دیگر کاروباری ادارے بند رہے، حالانکہ اس کے لیے پابندی نہیں لگائی گئی تھی ۔سڑکوں سے نجی گاڑیاں بھی ندارد رہیں ۔


Share: